(۲۴۹۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی رَاعٍ دَعَانَا لِطَعَامٍ ، وَأَتَانَا بِنَبِیذٍ فَکَرِہْتُہُ ، فَأَخَذَہُ عَلِیٌّ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَنْبَغِی أَنْ یَکُونَ ابْنُ الْحُسَیْنِ بْنُ عَلِیٍّ فَشَرِبَہُ ، وَقَالَ : إِذَا دَخَلْتَ عَلَی أَخِیکَ الْمُسْلِمِ فَکُلْ مِنْ طَعَامِہِ ، وَاشْرَبْ مِنْ شَرَابِہِ۔
(٢٤٩٢١) حضرت یزید بن ابی زیاد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک چرواہے کے ہاں گئے جس نے ہمیں دعوت پر بلایا تھا۔ وہ ہمارے پاس نبیذ لے کر آیا۔ میں نے تو اس کو ناپسند کیا لیکن حضرت علی ۔۔۔راوی ابوبکر کہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ابن حسین بن علی ہوں ۔۔۔نے اس کو لے لیا اور پھر اس کو پی بھی لیا اور فرمایا۔ جب تم اپنے کسی مسلمان بھائی کے پاس جاؤ تو تم اس کے کھانے میں سے کھاؤ او اس کے مشروب میں سے پیو۔