(۲۴۹۷۰) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنَ الْمُغِیرَۃِ رِیحَ ثُومٍ، فَقَالَ: أَلَمْ أَنْہَکُمْ عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ؟ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، أَقْسَمْتُ عَلَیْک لَتُدْخِلَنَّ یَدَک ، قَالَ : وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ ، أَوْ قَمِیصٌ ، فَأَدْخَلَ یَدَہُ فَإِذَا عَلَی صَدْرِہِ عِصَابٌ ، قَالَ : أَرَی لَکَ عُذْرًا۔
(٢٤٩٧٠) حضرت ابی بردہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت مغیرہ سے تھوم کی بُو محسوس کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا ؟ “ تو انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو قسم ہے کہ آپ اپنے ہاتھ کو (جُبہ یا قمیص میں) ضرور داخل کریں گے۔ اور ان پر (اس وقت) جُبہ یا قمیص تھی ۔۔۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ داخل کیا تو ان پر پٹی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارے لیئے عذر ہے۔ “