(۲۴۹۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : إِنَّکُمْ لَتَأْکُلُونَ شَجَرَتَیْنِ لاَ أَرَاہُمَا إِلاَّ خَبِیثَتَیْنِ ، ہَذَا الثُّومُ ، وَہَذَا الْبَصَلُ ، کُنْت أَرَی الرَّجُلَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوجَدُ رِیحُہُ مِنْہُ ، فَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ حَتَّی یُخْرَجَ بِہِ إِلَی الْبَقِیعِ ، فَمَنْ کَانَ آکِلَہُمَا لاَ بُدَّ فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔ (مسلم ۳۹۷۔ احمد ۱/۲۷)
(٢٤٩٧٦) حضرت معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا۔ تم لوگ دو درخت ایسے کھاتے ہو جن کو میں گندا سمجھتا ہوں۔ یہ تھوم اور پیاز ہے۔ میں تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں اس آدمی کو دیکھتا کہ جس سے اس کی بُو آتی ہوتی تھی کہ اس کو ہاتھ سے پکڑا جاتا اور اس کو بقیع کی طرف باہر نکال دیا جاتا۔ پھر بھی تم میں سے جو اس کو ناگزیر طور پر کھائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان (کی بو) کو پکا کر مار ڈالے۔