(۲۵۰۰۵) حَدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : لَمَّا قدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ہَاہُنَا ، إِذَا ہُوَ بِمَسْلَحَۃٍ لآلِ فَارِسٍ ، عَلَیْہِمْ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : ہزارمرد ، قَالَ : فَذَکَرُوا مِنْ عِظَمِ خَلْقِہِ وَشَجَاعَتِہِ ، قَالَ : فَقَتَلَہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ، ثُمَّ دَعَا بِغَدَائِہِ فَتَغَدَّی وَہُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی جِیفَتِہِ ، یَعْنِی جَسَدَہُ۔
(٢٥٠٠٥) حضرت حصین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید ، یہاں پر تشریف لائے تو آپ کا گزر اہل فارس کی ایک چوکی پر ہوا جہاں ان پر ایک مرد نگران تھا جس کو ” ہزار مرد “ کہا جاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کی جسامت کا حجم اور اس کی شجاعت کا ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں، حضرت خالد بن ولید نے اس کو قتل کردیا پھر آپ نے ناشتہ منگوایا اور آپ نے اس کے مردار جسم پر تکیہ لگائے ہوئے ناشتہ کیا۔