(۲۵۰۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَلِیٍّ فِی یَوْمٍ شَاتٍ ، وَفِی یَدِہِ شَرَابٌ ، فَنَاوَلَنِی فَقَالَ : اشْرَبْ ، قُلْتُ : وَمَا ہُوَ ؟ قَالَ : ثُلُثٌ عَسَلٌ ، وَثُلُثٌ سَمْنٌ ، وَثُلُثٌ لَبَنٌ ، فَقُلْتُ: لاَ أُرِیدُہُ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّک لَوْ شَرِبْتَہُ لَمْ تَزَلْ دَفِیئًا شَبْعَانًا سَائِرَ یَوْمِکَ۔
(٢٥٠٤١) حضرت عطاء بن سائب ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ایک سرد دن میں حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کے ہاتھ میں کوئی مشروب تھا۔ انھوں نے وہ مجھے دے دیا اور فرمایا : پیو ! میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : ایک تہائی شہد ہے، ایک تہائی گھی ہے اور ایک تہائی دودھ ہے۔ میں نے عرض کیا میرا دل اس کو نہیں چاہتا۔ انھوں نے فرمایا تم اس کو اگر پی لو گے تو آج پورا دن گرمی کی حالت میں بھی سیراب رہو گے۔