(۲۵۱۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃً ، قَالَ : شَہِدْنَا الْیَرْمُوکَ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ وَعَلَیْنَا الدِّیبَاجُ وَالْحَرِیرُ ، فَأَمَرَ بِرَمْیِنَا بِالْحِجَارَۃِ ، قَالَ : فَقُلْنَا : مَا بَلَغَہُ عَنَّا ؟ قَالَ : فَنَزَعْنَاہُ وَقُلْنَا : کَرِہَ زِیَّنَا ، فَلَمَّا اسْتَقْبَلْنَاہُ رَحَّبَ بِنَا ، وَقَالَ : إِنَّکُمْ جِئْتُمُونِی فِی زِیِّ أَہْلِ الشِّرْکِ ، إِنَّ اللَّہَ لَمْ یَرْضَ لِمَنْ قَبْلَکُمُ الدِّیبَاجَ ، وَلاَ الْحَرِیرَ۔
(٢٥١٦٨) حضرت سوید بن غفلہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ یرموک میں حاضر تھے۔ راوی کہتے ہیں ہمارا سامنا حضرت عمر سے ہوگیا۔ جبکہ ہم پر دیباج اور ریشم تھا تو حضرت عمر نے ہمیں پتھر مارنے کا حکم دیا۔ ہم نے (دل میں) کہا انھیں ہمارے طرف سے کیا بات پہنچی ہے ؟ راوی کہتے ہیں پھر ہم نے اس لباس کو اتار دیا اور ہم نے کہا : انھیں ہماری ہیئت پسند نہیں آئی۔ پھر جب ہمارا سامنا حضرت عمر سے ہوا تو انھوں نے ہمیں مرحبا کہا اور فرمایا : تم لوگ میرے پاس (پہلے) اہل شرک کی ہیئت میں آئے تھے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم سے پہلوں کے لیے بھی دیباج اور ریشم سے راضی نہ تھے۔