(۲۵۱۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، قَالَ : جَائَ شَیْخٌ فَسَلَّمَ عَلَی عَلِیٍّ ، وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِنْ طَیَالِسَۃٍ فِی مُقَدَّمِہَا دِیبَاجٌ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : مَا ہَذَا النَّتِنُ تَحْتَ لِحْیَتِکَ ؟ فَنَظَرَ الشَّیْخُ یَمِینًا وَشِمَالاً ، فَقَالَ : مَا أَرَی شَیْئًا ، قَالَ : یَقُولُ الرَّجُلُ : إِنَّمَا یَعْنِی الدِّیبَاجَ ، قَالَ : یَقُولُ الرَّجُلُ : إِذَنْ نُلْقِیہِ ، وَلاَ نَعُودُ۔
(٢٥١٨٧) حضرت ابو عمرو شیبانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا اور اس نے حضرت علی کو سلام کیا اس بوڑھے نے شال کے کپڑے کا ایک جُبہ پہنا ہوا تھا۔ جس کے آگے دیباج لگا ہوا تھا تو حضرت علی نے فرمایا : تمہاری داڑھی کے نچے ب یہ کیا بدبودار چیز ہے ؟ اس پر بوڑھے شخص نے اپنے دائیں بائیں دیکھا اور کہا مجھے تو کچھ نظر نہیں آیا ۔ راوی کہتے ہیں کسی نے کہا : ان کی مراد دیباج ہے۔ اس آدمی نے کہا : تب تو ہم اس کو پھینک دیں گے اور دوبارہ نہیں پہنیں گے۔