(۲۵۲۲۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِیَّۃِ أَذَاخِرَ ، فَالْتَفَتَ إِلَیَّ وَعَلَیَّ رَیْطَۃٌ مُضَرَّجَۃٌ بِالْعُصْفُرِ ، فَقَالَ : مَا ہَذِہِ ؟ فَعَرَفْتُ مَا کَرِہَ ، فَأَتَیْتُ أَہْلِی وَہُمْ یَسْجُرُونَ تَنُّورَہُمْ ، فَقَذَفْتُہَا فِیہِ ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللہِ ، مَا فَعَلَتِ الرَّیْطَۃُ ؟ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : أَلاَ کَسَوْتَہَا بَعْضَ أَہْلِکَ ، فَإِنَّہُ لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ لِلنِّسَائِ۔
(٢٥٢٢٦) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں ہم لوگ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ اذاخر کی گھاٹی سے آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا۔ اور (اس وقت) مُجھ پر ایک گلاب کے رنگ سے کچھ تیز عصفر کی رنگی ہوئی چادر تھی۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ اس سے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناپسندیدگی کو پہچانا، تو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا۔ وہ لوگ (اس وقت) تندور کو گرما رہے تھے۔ پس میں نے وہ چادر تندور میں پھینک دی۔ پھر میں دوسرے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” اے عبداللہ ! چادر کا کیا ہوا ؟ “ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ بات بتائی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے وہ چادر اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کیوں نہیں پہنا دی۔ کیونکہ عورتوں کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ “