(۲۵۲۶۵) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَلاَّمِ بْنِ أَبِی مُطِیعٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو حَصِین ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِی وَائِلٍ حَتَّی أَتَیْنَا الْفَرَّائِینَ ، فَاشْتَرَی فَرْوًا فَقَالَ صَاحِبُ الْفَرْوِ : أَمَا إنِّی أَزِیدُک یَا أَبَا وَائِلٍ ، إِنَّہُ ذُکِّیَ ، فَقَالَ: مَا یَسُرُّنِی أَنِّی اشْتَرَیْتُ الَّذِی قُلْتُ بِقِیرَاطٍ ۔ قَالَ أَبُو حَصِین : وَکَانَ إِبْرَاہِیمُ یَقُولُ ذَلِکَ، وَکَانَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ یَقُولُ ذَلِکَ۔
(٢٥٢٦٥) حضرت شعبی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو وائل کے ہمرا ہ باہر نکلا ۔ یہاں تک کہ ہم چمڑے سے بنے ہوئے لباس بیچنے والوں کے پاس پہنچے۔ اور حضرت ابو وائل نے وہ لباس خریدا۔ لباس (بیچنے) والے نے کہا۔ اے ابو وائل ! مں۔ آپ سے زیادہ (پیسے) لوں گا کون کہ یہ پاک (کردہ کھال کا) ہے۔ حضرت وائل نے کہا۔ جو بات تم نے کہی ہے میں اس کو ایک قیراط میں خریدوں گا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے۔ حضرت ابو حصین کہتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم بھی یہ کہا کرتے تھے اور حضرت سعید بن جُبیر بھی یہ بات کیا کرتے تھے۔