(۲۵۳۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِی غِفَارٍ ، عَنْ أَبِی تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی جُرَیٍّ الْہُجَیْمِیِّ ، قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : عَلَیْکَ السَّلاَمُ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ: لاَ تَقُلْ: عَلَیْک السَّلاَمُ؟ فَإِنَّ عَلَیْک السَّلاَمُ تَحِیَّۃُ الْمَوتَی ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، زِدْنِی ، قَالَ : الإِزَارُ إِلَی نِصْفِ السَّاقِ ، فَإِن أَبَیتَ فَإِلَی الْکَعْبِین ، وَإِیَّاکَ وَالْمَخِیلَۃَ ، فَإِنَّ اللہ لاَ یُحِب الْمَخِیلَۃَ۔ (ابوداؤد ۴۰۸۱۔ ترمذی ۲۷۲۱)
(٢٥٣١٩) حضرت ابو جری ہجیمی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا۔ اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! علیک السلام۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا علیک السلام نہ کہو کیونکہ یہ مردوں کا سلام ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے مزید کچھ بتائیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ازار کو نصف پنڈلی تک رکھو لیکن اگر تم اس سے انکار کرو تو پھر ٹخنوں تک رکھ لو۔ خبردار ! تکبر سے بچو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کو ناپسند کرتے ہیں۔ “