hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 2554

.

ابن أبي شيبة

2554
Ibn Abi Shaybah
(۲۵۵۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : دَخَلَ الأَسْوَدُ وَعَلْقَمَۃُ عَلَی عَبْدِ اللہِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : صَلَّی ہَؤُلاَئِ بَعْدُ ؟ قَالاَ : لاَ ، قَالَ : فَقُومُوا فَصَلُّوا ، وَلَمْ یَأْمُرْ بِأَذَانٍ ، وَلاَ إقَامَۃٍ ، وَتَقَدَّمَ ہو فَصَلَّی بِنَا ، فَذَہَبْنَا نَتَأَخَّرُ فَأَخَذَ بِأَیْدِینَا فَأَقَامَنَا مَعَہُ ، فَلَمَّا رَکَعْنَا وَضَعَ الأَسْوَدُ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، فَنَظَرَ عَبْدُ اللہِ فَأَبْصَرَہُ فَضَرَبَ یَدَہُ ، فَنَظَرَ الأَسْوَدُ فَإِذَا یَدَا عَبْدِ اللہِ بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ وَقَدْ خَالَفَ بین أَصَابِعِہِ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ ، قَالَ : إذَا کُنْتُمْ ثَلاَثَۃً فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ ، وَإِذَا رَکَعْتَ فَأَفْرِشْ ذِرَاعَیْک فَخِذَیْک ، فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إلَی اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ رَاکِعٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّہُ سَیَکُونُ أُمَرَائُ یُمِیتُونَ الصَّلاَۃَ شَرَقَ الْمَوْتَی ، وَأَنَّہَا صَلاَۃُ مَنْ ہُوَ شَرٌّ مِنْ حِمَارٍ ، وَصَلاَۃُ مَنْ لاَ یَجِدُ بُدًّا ، فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْیُصَلِّ الصَّلاَۃَ لِمِیقَاتِہَا ، وَلْتَکُنْ صَلاَتُکُمْ مَعَہُمْ سُبْحَۃً ، فَقُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : کَانَ عَلْقَمَۃُ وَالأَسْوَدُ یَفْعَلاَنِ ذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : تَفْعَلُ أَنْتَ ذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : إنَّ النَّاسَ یَضَعُونَ أَیْدِیَہُمْ عَلَی رُکَبِہِمْ ؟ فَقَالَ إبْرَاہِیمُ : سَمِعْت أَبَا مَعْمَرٍ یَقُولُ : رَأَیْت عُمَرَ یَضَعُ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ۔
(٢٥٥٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ حضرت عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ان دونوں نے کہا نہیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو، انھوں نے نہ اذان کا حکم دیا اور نہ اقامت کا۔ پھر وہ آگے بڑھے اور انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم پیچھے ہٹنے لگے تو انھوں نے ہمیں پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کرلیا۔ جب ہم نے رکوع کیا تو اسود نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ دیئے۔ جب حضرت عبداللہ نے انھیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کے ہاتھوں پر مارا۔ اسودنے دیکھا کہ حضرت عبداللہ کے دونوں ہاتھ ان کے گھٹنوں کے درمیان تھے اور انھوں نے اپنی انگلیوں کو کھول رکھا تھا۔ جب حضرت عبداللہ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا ” جب تم تین ہو تو تم میں سے ایک آدمی نماز پڑھائے، جب تم رکوع کرو تو اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر بچھا لو، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع کی حالت میں انگلیوں کو کھول کر رکھا کرتے تھے اور یہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ عنقریب ایسے امراء آئیں گے جو نماز کو مردہ کردیں گے۔ وہ ایسی نماز ہوگی جو گدھے سے زیادہ بری ہوگی اور اس نماز کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جب تم میں سے کوئی ایسا زمانہ پالے تو اپنی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرلے۔ اور ان کے ساتھ محض نفل کے طورپر شریک ہو۔
راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ کیا اس کے بعد پھر حضرت اسود اور حضرت علقمہ یونہی کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں انھوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کہ بہت سے لوگ تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو معمر کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کرتے تھے۔