(۲۵۶۰۳) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، وَسُفْیَانُ بْنُ عُقْبَۃَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بن کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : رَآنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلِی شَعْرٌ طَوِیلٌ ، فَقَالَ : ذُبَابٌ ، ذُبَابٌ ، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُہُ ، فَرَآنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّی لَمْ أَعْنِکَ ، وَہَذَا أَحْسَنُ۔
(ابوداؤد ۴۱۸۷۔ ابن ماجہ ۳۶۳۶)
(٢٥٦٠٣) حضرت وائل بن حجر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا جبکہ میرے بال لمبے تھے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مکھی، مکھی ‘ ‘ چنانچہ مں ب چل دیا اور میں نے وہ بال کاٹ لیے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ” میری مراد (مکھی مکھی کہنے سے) تم تو نہیں تھے۔ یہ بھی اچھا ہے۔ “