(۲۵۷۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ ، عَنْ سَلْمَی أُمِّ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ : أَتَی جِبْرِیلُ یَسْتَأْذِنُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَہُ ، فَأَبْطَأَ عَلَیْہِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِدَائَہُ ، فَقَامَ إِلَیْہِ وَہُوَ بِالْبَابِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَذِنَّا لَکَ ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَکِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ ، وَلاَ صُورَۃٌ۔ (طبرانی ۹۷۲)
(٢٥٧٠٤) حضرت ابو رافع سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل آئے اور جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اجازت دے دی لیکن وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے میں تاخیر کرنے لگے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر مبارک سنبھالی اور ان کی طرف گئے تو ان کو دروازے پر دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہم نے تو تمہیں اجازت دے دی تھی۔ “ جبرائیل نے کہا : ” جی ہاں ! لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ “