(۲۵۷۳۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ فَاطِمَۃَ ، عَنْ أَسْمَائَ ، قَالَتْ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنَتِی عُرَیِّسٌ ، وَقَدْ أَصَابَتْہَا الْحَصْبَۃُ ، فَتَمَرَّقَ شَعْرُہَا ، أَفَأَصِلُ لَہَا فِیہِ ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَعَنَ اللَّہُ الْوَاصِلَۃَ وَالْمُسْتَوْصِلَۃ۔ (بخاری ۵۹۳۶۔ مسلم ۱۶۷۶)
(٢٥٧٣٢) حضرت اسماء سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک عورت جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا۔ میری بیٹی کی شادی ہوئی ہے۔ اور اس کو خسرہ کی بیماری ہوگئی پس اس کے بال سارے جھڑ گئے ہیں۔ تو کیا میں اس کے لیے اس بیماری میں بال لگوا لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے کہا۔ ” اللہ تعالیٰ بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرماتے ہیں۔ “