(۲۵۷۳۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ یُحَدِّثُ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ أَنَّ جَارِیَۃً مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ ، وَأَنَّہَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعْرُہَا ، فَأَرَادُوا أَنْ یَصِلُوہُ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ ؟ فَلَعَنَ الْوَاصِلَۃَ وَالْمُسْتَوْصِلَۃ۔
(مسلم ۱۶۷۷۔ احمد ۶/۱۱۱)
(٢٥٧٣٧) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار ہوگئی۔ جس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ لوگوں نے اس کے بال لگوانا چاہے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں سوال کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرمائی۔