(۲۵۷۸۳) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی فَرْوَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، قُلْتُ : رَجُلٌ فِی خَاتَمِہِ مِثْلُ رَأْسِ الطَّیْرِ ؟ فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخِی ، مَا عَلِمْنَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَخَتَّمَ لاَ أَبُو بَکْرٍ ، وَلاَ عُمَرَ ، وَلاَ فُلاَنًا ، وَلاَ فُلاَنًا حَتَّی عَدَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَعَدْتُ عَلَیْہِ مِرَارًا فَکَأَنَّہُ یَکْرَہُ الْخَاتَمَ۔
(٢٥٧٨٣) حضرت عبد الاعلیٰ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ ایک آدمی کی انگوٹھی میں پرندے کے سر جیسی کوئی تصویر ہے۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا : کہ اے میرے بھتیجے ! ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی صحابی کے انگوٹھی پہننے کا علم نہیں۔ نہ تو حضرت ابوبکر اور نہ حضرت عمر اور نہ فلاں اور فلاں۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کئی صحابہ کا نام لیا۔ میں نے دوبارہ سوال کیا تو ان کے جواب سے یہی اندازہ ہوا کہ وہ اسے مکروہ خیال فرماتے ہیں۔