(۲۵۷۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أَتَی عَلَیَّ صَاحِبٌ لِی فَنَادَانِی فَأَشْرَفْت عَلَیْہِ ، فَقَالَ : قُرِئَ عَلَیْنَا کِتَابُ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ، یَعْزِمُ عَلَی مَنْ کَانَ فِی بَیْتِہِ سِتْرٌ مَنْصُوبٌ فِیہِ تَصَاوِیرُ لِمَا وَضَعَہُ ، فَکَرِہْتُ أَنْ أَبِیْتَ عَاصِیًا ، فَقُمْنَا إِلَی قِرَامٍ لَنَا فَوَضَعْتُہُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَکَانُوا لاَ یَرَوْنَ مَا وُطِئَ وَبُسِطَ مِنَ التَّصَاوِیرِ مِثْلُ الَّذِی نُصِبَ۔
(٢٥٧٩٨) حضرت حطان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک دوست آیا اور اس نے مجھے آواز دی ، میں نے جھانک کر اسے دیکھا تو اس نے کہا کہ ہمارے سامنے امیر المؤمنین کا ایک خط پڑھا گیا ہے جس میں لکھا تھا کہ جن گھروں میں ایسے پردے ہیں جن پر تصویریں ہیں ان پر لازم ہے کہ ان پردوں کو اتار دیں۔ پس میں نے رات کو گناہ گار ہونے کی حالت میں گزارنا مناسب نہ سمجھا اور ان پردوں کو اتار دیا۔ حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف بچھائی جانے والی چیزوں پر تصویروں کو مکروہ خیال نہ فرماتے تھے بلکہ آویزاں کی جانے والی چیزوں پر تصویروں کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔