(۲۵۸۱۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا عَنِ الْبَِدَاوَۃِ فَقَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْدُو إِلَی ہَذِہِ التِّلاَعِ ، وَإِنَّہُ أَرَادَ الْبَدَاوَۃَ مَرَّۃً ، فَأَرْسَلَ إلَیَّ نَاقَۃً مُحَرَّمَۃً مِنْ إبِلِ الصَّدَقَۃِ ، فَقَالَ لِی : یَا عَائِشَۃُ ، ارْفُقِی فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ یَکُنْ فِی شَیْئٍ إلاَّ زَانَہُ ، وَلاَ نُزِعَ مِنْ شَیْئٍ قَطُّ إلاَّ شَانَہُ۔ (ابوداؤد ۲۴۷۰۔ احمد ۶/۵۸)
(٢٥٨١٣) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے صحرا میں مقام ہونے سے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان ٹیلوں کی طرف جاتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ صحرا میں جانے کا ارادہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کی اونٹنیوں میں سے ایک سرکش اونٹنی میری طرف بھیجی اور مجھ سے فرمایا : اے عائشہ ! نرمی اختیار کرو ، اس لیے کہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور کسی چیز سے نرمی نہیں کھینچی جاتی مگر وہ بدصورت ہوجاتی ہے۔