(۲۵۸۴۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لأُمِّ الدَّرْدَائِ : ما سَمِعْت مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شیئا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، دَخَلْت عَلَیْہِ وَہُوَ جَالِسٌ ، أَوْ قَالَتْ فِی الْمَسْجِدِ ، أَوْ ذَکَرَتْ غَیْرَہُ فَسَمِعْتہ یَقُولُ : أَوَّلُ مَا یُوضَعُ فِی الْمِیزَانِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ۔ (طبرانی ۶۴۷)
(٢٥٨٤٦) حضرت میمون بن مھران فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام الدرداء سے پوچھا : کیا آپ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث سنی ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے یا فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تھے یا کوئی اور بات ذکر فرمائی۔ پس میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سُنا : ترازو میں سب سے پہلے اچھے اخلاق کو رکھا جائے گا۔