(۲۵۸۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : دَخَلَ عُیَیْنَۃُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ یَسْتَأْذِنْ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَنْ ہَذَا ؟ قَالَ : ہَذَا أَحْمَقُ مُطَاعٌ فِی قَوْمِہِ ، قَالَ : ثُمَّ أُتِیَ بِشَرَابٍ فَاسْتَتَرَ ، ثُمَّ شَرِبَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا ہَذَا ؟ قَالَ : ہَذَا الْحَیَائُ خُلَّۃٌ فِیہِمْ أُعْطُوہَا وَمُنِعتموہا۔
(٢٥٨٥٦) حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عیینہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنا چاہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اجازت نہیں دی۔ حضرت عائشہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کون شخص ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بیوقوف ہے جس کی قوم میں اطاعت کی جاتی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو چھپا کر نوش فرمایا، تو وہ شخص کہنے لگا : یہ کیا طریقہ ہے ؟ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حیا ان کے درمیان ایک خصلت ہے جو ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے۔ اور تمہیں اس سے محروم رکھا گیا ہے۔