(۲۵۸۶) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ مَیْمُونًا عَنْ مِقْدَارِ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ؟ فَقَالَ : لاَ أَرَی أَنْ یَکُونَ أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثِ تَسْبِیحَاتٍ ۔ قَالَ جَعْفَرٌ : فَسَأَلْت الزُّہْرِیَّ ، فَقَالَ : إذَا وَقَعَتِ الْعِظَامُ وَاسْتَقَرَّتْ ، فَقُلْتُ لَہُ : إنَّ مَیْمُونًا یَقُولُ : ثَلاَثَ تَسْبِیحَاتٍ ، فَقَالَ : ہُوَ الَّذِی أَقُولُ لَکَ نَحْوٌ مِنْ ذَلِکَ۔
(٢٥٨٦) حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمون سے رکوع اور سجود کی مقدار کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ تین تسبیحات کی مقدار سے کم نہیں ہونے چاہئیں۔ حضرت جعفر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے سوال کیا کہ اگر ہڈیوں اور اعتدال اور استقرار آجائے تو کیا یہ ارکان ادا نہیں ہوجاتے ؟ فرمانے لگے کہ حضرت میمون فرمایا کرتے تھے کہ تین تسبیحات کی مقدار ضروری ہے۔ اور میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں وہ اس کے برابر ہی ہے۔