(۲۵۹۱۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ لَہُ أَبَوَانِ فَیُصْبِحُ وَہُوَ مُحْسِنٌ إلَیْہِمَا إلاَّ فَتَحَ اللَّہُ لَہُ بَابَیْنِ مِنَ الْجَنَّۃِ ، وَلاَ یُمْسِی وَہُوَ مُسِیئٌ إلَیْہِمَا إلاَّ فَتَحَ اللَّہُ لَہُ بَابَیْنِ مِنَ النَّارِ ، وَلاَ سَخِطَ عَلَیْہِ وَاحِدٌ مِنْہُمَا فَیَرْضَی اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی یَرْضَی عَنْہُ ، قَالَ: قُلْتُ : وَإِنْ کَانَا ظَالِمَیْنِ ؟ قَالَ : وَإِنْ کَانَا ظَالِمَیْنِ۔
(٢٥٩١٦) حضرت سعد بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : جس مسلمان کے والدین زندہ ہوں اور وہ صبح کرے ان دونوں سے نیک سلوک کرتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیتے ہیں اور جو کوئی مسلمان شام کرے ان دونوں سے برا سلوک کرتے ہوئے تو اللہ اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھول دیتے ہیں اور جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اس سے ناراض ہو تو اللہ اس سے راضی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اس ناراض کو راضی کرے، راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھاـ: اگرچہ وہ دونوں ظالم ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اگرچہ وہ دونوں ظالم ہوں۔