(۲۶۰۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَامِرٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ الْعَبَّاسُ لابْنِہِ عَبْدِ اللہِ بن عباس : یَا بُنَیَّ ، إنِّی أَرَی أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یُقَرِّبُک ، وَیَسْتَشِیرُک مَعَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَخْلُو بِکَ ، فَاحْفَظْ عَنِّی ثَلاَثًا : اتَّقِ اللَّہَ لاَ یُجَرِّبَنَّ عَلَیْک کِذْبَۃً ، وَلاَ تُفْشِیَنَّ لَہُ سِرًّا ، وَلاَ تَغتَابنَّ عِنْدَہُ أَحَدًا ، قَالَ : فَقُلْت لابْنِ عَبَّاسٍ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ ، کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ خَیْرٌ مِنْ أَلْفٍ ، قَالَ : وَمِنْ عَشَرَۃِ آلاَفٍ۔
(٢٦٠٤٠) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عباس نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے ! میں امیر المؤمنین کو دیکھتا ہوں کہ وہ تجھے اپنے قریب کرتے ہیں ، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے ساتھ تجھ سے بھی مشورہ طلب کرتے ہیں اور تیرے ساتھ خلوت کرتے ہیں پس تو میری طرف سے تین باتیں محفوظ کرلے۔ تم بچو اس بات سے کہ وہ تم پر جھوٹ کو آزمائیں اور تم ہرگز کبھی بھی ان کے راز کو فاش مت کرنا اور ان کے سامنے کبھی کسی کی غیبت مت کرنا۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس سے عرض کیا کہ ان میں سے ہر ایک ایک ہزار سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا : بلکہ دس ہزار سے بہتر ہے۔