(۲۶۰۹۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ الشَّعْبِیِّ ، فَجَائَ جَرِیرُ بْنُ یَزِیدَ ، فَدَعَا لَہُ الشَّعْبِیُّ بِوِسَادَۃٍ فَقُلْنَا لَہُ : یَا أَبَا عَمْرٍو نَحْنُ عِنْدَکَ أَشْیَاخٌ ، دَعَوْت لِہَذَا الْغُلاَمِ بِوِسَادَۃٍ ؟ فَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إذَا أَتَاکُمْ کَرِیمُ قَوْمٍ فَأَکْرِمُوہُ۔
(٢٦٠٩٧) حضرت طارق فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت شعبی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت جریر بن یزید تشریف لائے تو حضرت شعبی نے ان کے لیے تکیہ منگوایا، تو ہم نے آپ سے کہا : اے ابو عمرو ! ہم آپ کے پاس بڑے لوگ ہیں اور آپ اس بچے کے لیے تکیہ منگوا رہے ہیں ؟ تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے پاس پاس قوم کا معزز شخص آئے تو تم اس کا اکرام کرو۔