(۲۶۱۰۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْخَطْمِیِّ ، أَنَّ جَدَّہُ وَہُوَ عُمَیْرُ بْنُ حَبِیبٍ أَوْصَی بَنِیہِ فَقَالَ : یَا بَنِیَّ ، إیَّاکُمْ وَمُجَالَسَۃَ السُّفَہَائِ ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَہُمْ دَائٌ ، إِنَّہُ مَنْ یَحْلُمُ ، عَنِ السَّفِیہِ یُسَرَّ بِحِلْمِہِ ، وَمَنْ یُحبہ یَنْدَمُ ، وَمَنْ لاَ یَقَرُّ بِقَلِیلِ مَا یَجِیئُ بِہِ السَّفِیہُ یَقَرُّ بِالْکَثِیرِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُنْکَرِ فَلْیُوَطِّنْ نَفْسَہُ عَلَی الصَّبْرِ عَلَی الأَذَی ، فَإِنَّہُ مَنْ یَصْبِرُ لاَ یَجِدُ لِلأَذَی مَسًّا۔
(٢٦١٠٣) حضرت ابو جعفر الخطمی فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عمیر بن حبیب نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی : کہ اے میرے بیٹھے ! تم بیوقوفوں کی صحبت اختیار کرنے سے بچو پس بیشک ان کی صحبت تو بیماری ہے، اور جو شخص بیوقوف سے درگزر کرتا ہے تو اس کی درگزر کی وجہ سے اس کو خوشی ملتی ہے اور جو بیوقوف سے محبت کرتا ہے تو وہ شرمندہ ہوتا ہے، اور جو شخص بیوقوف کی تھوڑی بات سے بھی آنکھ ٹھنڈی نہیں کرتا تو اس کی آنکھ کثرت سے ٹھنڈی ہوتی ہے ، اور تم میں کوئی ارادہ کرے نیکی کے حکم کرنے کا اور برائی سے روکنے کا تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو تکلیف پر صبر کرنے کا عادی بنادے ۔ اس لیے کہ جو شخص صبر کرتا ہے تو اس کو تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔