(۲۶۱۲۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَن صُبَیح بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ فَہُوَ مُنَافِقٌ : إذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ: قَالَ : وَتَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ : {وَمِنْہُمْ مَنْ عَاہَدَ اللَّہَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِہِ } إلَی قَوْلِہِ : { نِفَاقًا فِی قُلُوبِہِمْ } إلَی قَوْلِہِ : { بِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ } (التوبۃ: ۷۵ تا ۷۷)
(٢٦١٢٥) حضرت صبیح بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے ارشاد فرمایا : تین چیزیں ایسی ہیں جس میں بھی پائی جائیں تو وہ منافق ہوگا۔ جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے ، اور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : ” اور انھیں میں وہ لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر وہ اپنے فضل سے ہمں ی نوازے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور یقیناً نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں گیں لیکن جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا تو اس میں بخل کرنے لگے اور منہ موڑ کر چل دئیے۔ نتیجہ یہ کہ اللہ نے سزا کے طور پر نفاق ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے جما دیا جس دن وہ اللہ سے جا کر ملیں گے، کیونکہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی اور کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔ “