(۲۶۲۰۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ غَالِبٍ ، قَالَ : إنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ إذْ جَائَہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، عَنْ جَدِّی ، قَالَ : بَعَثَنِی أَبِی إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : ائْتِہِ فَأَقْرِئْہُ السَّلاَمَ ، فَأَتَیْتہ فَقُلْت : إنَّ أَبِی یُقْرِئُک السَّلاَمَ ، فَقَالَ : وَعَلَیْک وَعَلَی أَبِیک السَّلاَمُ۔ (ابوداؤد ۵۱۸۹۔ احمد ۵/۳۶۶)
(٢٦٢٠٥) حضرت غالب فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میرے والد نے میرے دادا سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : کہ میرے والد نے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور کہا : کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا سلام کہنا، پس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا میں نے کہا کہ میرے والد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہہ رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علیک و علی ابیک السلام۔ تجھ پر اور تیرے والد پر سلام ہو۔