(۲۶۲۶۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : سَأَلَ مُحَمَّدُ بْنُ کَعْبٍ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْتِدَائِ أَہْلِ الذِّمَّۃِ بِالسَّلاَمِ فَقَالَ : تَرُدُّ عَلَیْہِمْ ، وَلاَ تَبْتَدِئہُمْ ، فَقُلْت : فَکَیْفَ تَقُولُ أَنْتَ ؟ فقَالَ : مَا أَرَی بَأْسًا أَنْ تَبْتَدِئہُمْ ، قُلْتُ : لِمَ ؟ قَالَ : لِقَوْلِ اللہِ {فَاصْفَحْ عَنْہُمْ وَقُلْ سَلاَمٌ فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ}۔
(٢٦٢٦٤) حضرت عون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن کعب نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے ذمیوں کو سلام کرنے میں پہل کرنے کے بارے میں پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : ان کو سلام کا جواب دیا جائے گا اور تم ان پر سلام میں پہل نہ کرو۔ میں نے پوچھا : آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم بھی ان پر سلام میں پہل کرو۔ میں نے پوچھا : کیوں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ رب العزت کے اس قول کی وجہ سے۔ ترجمہ : تم ان سے درگزر کرو اور یوں کہو : سلام، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔