(۲۶۳۶۵) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ نُعَیْمَ بْنَ أَبِی ہِنْدٍ فَأَخْرَجَ إلَیَّ صَحِیفَۃً فَإِذَا فِیہَا مِنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سَلاَمٌ عَلَیْک أَمَّا بَعْدُ فَکَتَبَ إلَیْہِمَا مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ سَلاَمٌ عَلَیْکُمَا أَمَّا بَعْدُ۔
(٢٦٣٦٥) حضرت محمد بن سوقہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت نعیم بن ابی ھند کے پاس آیا تو آپ نے مجھے ایک صحیفہ نکال کر دکھایا اس میں یوں لکھا ہوا تھا۔ ابو عبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل کی جانب سے حضرت عمر بن خطاب کی طرف ۔ آپ پر سلامتی ہو ۔ اما بعد : حمدو صلوۃ کے بعد اور پھر جب حضرت عمر نے ان دونوں کو خط کا جواب لکھا تو وہ یوں تھا۔ عمر بن خطاب کی جانب سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت معاذ بن جبل کی طرف، تم دونوں پر سلام ہو، اما بعد۔