(۲۶۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : خَرَجْت مَعَ عَبْدِ اللہِ مِنْ دَارِہِ إلَی الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا تَوَسَّطْنَا الْمَسْجِدَ رَکَعَ الإِمَامُ فَکَبَّرَ عَبْدُ اللہِ ، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعْت مَعَہُ ، ثُمَّ مَشَیْنَا رَاکِعَیْنَ حَتَّی انْتَہَیْنَا إلَی الصَّفِّ ، حَتَّی رَفَعَ الْقَوْمُ رُؤُوسَہُمْ ۔ قَالَ : فَلَمَّا قَضَی الإِمَامُ الصَّلاَۃَ قُمْت أَنَا أَرَی أَنی لَمْ أُدْرِکْ ، فَأَخَذَ بِیَدِی عَبْدُ اللہِ فَأَجْلَسَنِی ، وَقَالَ : إنَّک قَدْ أَدْرَکْتَ۔
(٢٦٣٧) حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ کے ساتھ ان کے گھر سے مسجد کی طرف گیا۔ جب ہم مسجد کے درمیان میں پہنچے تو امام نے رکوع کرلیا۔ حضرت عبداللہ نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے، میں بھی ان کے ساتھ رکوع میں چلا گیا۔ پھر ہم رکوع کی حالت میں چلتے ہوئے صف تک پہنچے تو اس وقت لوگ اپنے سر رکوع سے بلند کرچکے تھے۔ پھر جب امام نے نماز پوری کرلی تو میں یہ خیال کرتے ہوئے کھڑا ہوگیا کہ میری وہ رکعت چھوٹ گئی ہے۔ لیکن حضرت عبداللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بٹھا دیا۔ اور فرمایا کہ تمہیں وہ رکعت مل گئی ہے۔