(۲۶۳۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ شُعَیْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْبَارِقِیِّ ، فَمَرَّ عَلَیْنَا یَہُودِیٌّ ، أَوْ نَصْرَانِیٌّ عَلَیْہِ کَارَۃٌ مِنْ طَعَامٍ ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ عَلِیٌّ ، فَقَالَ شُعَیْبٌ : فَقُلْت : إِنَّہُ یَہُودِیٌّ، أَوْ نَصْرَانِیٌّ ، فَقَرَأَ عَلِیٌّ آخِرَ سُورَۃِ الزُّخْرُفِ {وَقِیلِہِ یَا رَبِّ إنَّ ہَؤُلاَئِ قَوْمٌ لاَ یُؤْمِنُونَ فَاصْفَحْ عَنْہُمْ وَقُلْ سَلاَمٌ فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ}۔
(٢٦٣٨٧) حضرت شعیب بن حبحاب فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی بن عبداللہ البارقی کے ساتھ تھا کہ ہمارے پاس سے ایک یہودی یا نصرانی گزرا جس کے پاس کھانے کا بوجھ تھا۔ حضرت علی نے اس کو سلام کیا۔ اس پر حضرت شعیب کہتے ہیں کہ میں نے فرمایا : یہ تو یہودی یا نصرانی ہے ! تو حضرت علی نے سورة زخرف کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : قسم ہے رسول کے اس کہے کی کہ اے رب یہ لوگ ہیں کہ یقین نہیں لاتے ، سو تو منہ پھیر لے ان کی طرف سے اور کہہ سلام ہے۔ اب آخر کو وہ معلوم کرلیں گے۔