(۲۶۳۹۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی الزِّنْبَاعِ ، عَنْ أَبِی الدِّہْقَانَۃِ ، قَالَ : قیلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إنَّ ہَاہُنَا غُلاَمًا مِنْ أَہْلِ الْحِیرَۃِ ، لَمْ یُرَ قَطُّ أَحْفَظُ مِنْہُ ، وَلاَ أَکْتُبُ مِنْہُ ، فَإِنْ رَأَیْت أَنْ تَتَّخِذَہُ کَاتِبًا بَیْنَ یَدَیْک، إذَا کَانَتْ لَکَ الْحَاجَۃُ شَہِدَک، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: قَدِ اتَّخَذْت إذًا بِطَانَۃً مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ۔
(٢٦٣٩٢) حضرت ابو الدھقانہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب سے کہا گیا : بیشک یہاں اہل حیرہ کا ایک لڑکا ہے۔ اس سے زیادہ مضبوط حافظہ والا اور اس سے اچھا کوئی بھی کاتب نہیں دیکھا گیا۔ اگر آپ کی رائے ہو تو آپ اس کو اپنے امور کے لیے کاتب رکھ لیں ؟ جب بھی آپ کو ضرورت ہوگی وہ آپ کے پاس حاضر ہوجائے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا؛ تحقیق اس صورت میں تو میں مومنین کے علاوہ کسی اور کو ہم نشین بنانے والا ہوں گا۔