(۲۶۴۵۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ ، أَنَّ جَارِیَۃً بَیْنَمَا ہِیَ عَلَی بَعِیرٍ ، أَوْ رَاحِلَۃٍ عَلَیْہَا مَتَاعٌ لِلْقَوْمِ بَیْنَ جَبَلَیْنِ فَتَضَایَقَ بِہَا الْجَبَلُ ، فَأَتَی عَلَیْہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَبْصَرَتْہُ جَعَلَتْ تَقُولُ : حل اللَّہُمَّ الْعَنْہُ حَلَّ اللَّہُمَّ الْعَنْہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَاحِبُ الرَّاحِلَۃِ ؟ لاَ یَصْحَبُنَا بَعِیرٌ ، أَوْ رَاحِلَۃٌ عَلَیْہَا لَعَنْۃٌ مِنَ اللہِ ، أَوْ کَمَا قَالَ۔
(مسلم ۲۰۰۵۔ احمد ۴/۴۱۹)
(٢٦٤٥٣) حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک باندی تھی جو اونٹ یا کسی سواری پر سوار تھی اور اس اونٹ پر چند لوگوں کا سامان تھا جو دو پہاڑوں کے درمیان سے گزر رہا تھا، پس پہاڑنے اس کا راستہ تنگ کردیا۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے۔ جب عورت نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو اس نے اونٹ کو کہنا شروع کردیا، چل چل۔ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما، چل چل۔ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سواری کا مالک کون ہے ؟ ہمارے ساتھ وہ اونٹ یا سواری نہیں چلے گی جس پر اللہ کی لعنت ہو یا جیسا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔