(۲۶۴۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : بَیْنَمَا عُمَرُ یَسِیرُ فِی أصْحَابِہِ وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ یَسِیرُ عَلَی بَعِیرٍ لَہُ مِنَ الْقَوْمِ یَضَعُہُ حَیْثُ یَشَائُ ، فَلاَ أَدْرِی بِمَا الْتَوَی عَلَیْہِ فَلَعَنْہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَنْ ہَذَا اللاَّعِنُ ؟ قَالُوا : فُلاَنٌ ، قَالَ : تَخَلَّفْ عَنَّا أَنْتَ وَبَعِیرُک ، لاَ تَصْحَبُنَا رَاحِلَۃٌ مَلْعُونَۃٌ۔
(٢٦٤٥٦) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سفر کر رہے تھے کہ لوگوں میں ایک شخص جو اپنے اونٹ پر سفر کررہا تھا اور قوم میں سے جو چاہتا اس کو سامان رکھ دیتا ، میں نہیں جانتا کہ اس پر کیا دشواری آئی کہ اس نے اونٹ کو لعنت کی، اس پر حضرت عمر نے پوچھا : یہ لعنت کرنے والا کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں شخص ہے۔ آپ نے فرمایا : تو اور تیرا اونٹ ہم سے دور ہوجائیں ہم کسی ملعون سواری کو اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے۔