(۲۶۵۳۳) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ ابْنِ الشَّرِیدِ ، أَوْ یَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ سَمِعَ أَحَدُہُمَا الشَّرِیدَ یَقُولُ : أَرْدَفَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَلْفَہُ فَقَالَ : ہَلْ مَعَک مِنْ شِعْرِ أُمَیَّۃَ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ شَیْئٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ہِیہِ ، فَأَنْشَدْتہ بَیْتًا فَقَالَ : ہِیہِ ، فَلَمْ یَزَلْ یَقُولُ : ہِیہِ ہِیہِ حَتَّی أَنْشَدْتہ مِئَۃ۔
(٢٦٥٣٣) حضرت ابن شرید یا حضرت یعقوب بن عاصم ان دونوں میں سے ایک فرماتے ہیں کہ حضرت شرید نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ۔ اور فرمایا : کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے شعرکے کچھ اشعار یاد ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سناؤ تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک شعر سنا دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور سناؤ، مسلسل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے رہے۔ اور سناؤ اور سناؤ ! یہاں تک کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سو اشعار سنا دیئے۔