(۲۶۵۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَن مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ أَصْدَقَ کَلِمَۃٍ ، قَالَہَا شَاعِرٌ کَلِمَۃُ لَبِیدٍ ، ثُمَّ تَمَثَّلَ أَوَّلَہُ وَتَرَکَ آخِرَہُ :
أَلاَ کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلاَ اللَّہَ بَاطِلٌ۔
وَکَادَ أُمَیَّۃُ بْنُ أَبِی الصَّلْتِ أَنْ یُسْلِمَ۔
(٢٦٥٣٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ سچی ترین بات جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید کی بات ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے شعر کا پہلا مصرعہ پڑھا اور اس کا دوسرا مصرعہ چھوڑ دیا۔ مصرعہ یہ ہے ( ترجمہ) اللہ کے سوا ہر چیز باطل اور فانی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت اسلام لے آتا۔