(۲۶۵۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عن أسامۃ , عَن نَافِعٍ ، قَالَ : کَانَت لِعَبْدِ اللہِ بن رواحۃ جَارِیَۃٌ ، فَکَانَ یُکَاتِمُ امْرَأَتَہُ غَشَیَانَہَا ، قَالَ : فَوَقَعَ عَلَیْہَا ذَاتَ یَوْمٍ ، فَجَائَ إلَی امْرَأَتِہِ فَاتَّہَمَتْہُ أَنْ یَکُونَ وَقَعَ عَلَیْہَا ، فَأَنْکَرَ ذَلِکَ فَقَالَتْ لہ : اقْرَأْ إذًا الْقُرْآنَ ، فَقَالَ :
شَہِدْت بِإِذْنِ اللہِ أَنَّ مُحَمَّدًا
وَأَنَّ أَبَا یَحْیَی وَیَحْیَی کِلاَہُمَا
رَسُولُ الَّذِی فَوْقَ السَّمَاوَاتِ مِنْ عَلُ
لَہُ عَمَلٌ فِی دِینِہِ مُتَقَبَّلُ
فَقَالَتْ : أَولَی لکَ۔
(٢٦٥٤٧) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحۃ کی ایک باندی تھی۔ آپ اس سے جماع کرنے کو اپنی بیوی سے چھپاتے تھے۔ ایک دن آپ نے اس اسے جماع کیا اور جب اپنی بیوی کے پاس آئے تو اس نے آپ پر الزام لگایا کہ آپ نے اس باندی سے جماع کیا ہے ؟ آپ نے اس کا انکار کیا تو آپ کی بیوی نے آپ سے کہا : اگر ایسی بات ہے تو قرآن پڑھو : آپ نے یہ اشعار پڑھ دیئے۔ (ترجمہ) میں اللہ کے حکم سے گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس اللہ کے رسول ہیں جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ حضرت یحییٰ اور ان کے والد دونوں کا عمل اس دین میں قابل قبول ہے۔ اس نے کہا : تم سچے ہو۔