(۲۶۵۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَی عَامِرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا رِبْعِیُّ بْنُ حِرَاشٍ ، أَنَّہُ أَتَی عُمَرَ فِی نَفَرٍ مِنْ غَطَفَانَ فَذَکَرُوا الشِّعْرَ فَقَالَ عُمَرُ : أَیُّ شُعَرَائِکُمْ أَشْعَرُ ؟ فَقَالُوا : أَنْتَ أَعْلَمُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : مَنِ الَّذِی یَقُولُ :
أَتَیْتُک عَارِیًّا خَلِقًا ثِیَابِی
عَلَی خَوْفٍ تُظَنُّ بِی الظُّنُونُ
فَأَلْفَیْت الأَمَانَۃَ لَمْ تَخُنْہَا
کَذَلِکَ کَانَ نُوحٌ لاَ یَخُونُ
قُلنا النَّابِغَۃُ , ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : مَنِ الَّذِی یَقُولُ :
حَلَفْت فَلَمْ أَتْرُکْ لِنَفْسِکَ رِیبَۃً
وَلَیْسَ وَرَائَ اللہِ لِلْمَرْئِ مَذْہَبُ
ثُمَّ قَالَ : مَنِ الَّذِی یَقُولُ :
إلاَ سُلَیْمَانَ إذْ قَالَ الإِلَہُ لَہُ
قُمْ فِی الْبَرِیَّۃِ فَازْجُرْہَا عَلی الْفَنَدِ
قلْنَا : النَّابِغَۃُ ، قَالَ : ہَذَا أَشْعَرُ شُعَرَائِکُمْ۔
(٢٦٥٥٢) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ربعی بن حراش نے ارشاد فرمایا : میں غطفان کے لشکر میں حضرت عمر کے پاس آیا تو وہ لوگ شعروں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا : تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر کون سا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : امیر المؤمنین ! آپ زیادہ جانتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ (ترجمہ) میں تیرے پاس اس حال میں آیا کہ میں ننگے پاؤں تھا اور میرے کپڑے پرانے تھے۔ بہت سے اندیشوں نے مجھے گھیرا ہوا تھا۔ میں اپنی امانت کو اس حال میں پایا کہ تو نے اس میں خیانت نہ کی تھی۔ حضرت نوح بھی خیانت نہ کیا کرتے تھے۔
ہم لوگوں نے جواب دیا : نابغہ نے، آپ پھر ایسے ہی فرمایا اور پوچھا : یہ شعر کس نے کہا ؟ (ترجمہ) میں قسم کھاتا ہوں تاکہ تیرے دل میں کوئی شک باقی نہ رہے۔ اور اللہ کے سوا تو آدمی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
پھر آپ نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ (ترجمہ) سوائے سلیمان کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا لوگوں میں کھڑے ہوجاؤ اور انھیں دنیا کے فانی ہونے کا درس دو ۔
ہم نے جواب دیا : نابغہ نے۔ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر ہے۔