(۲۶۵۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن مُسْلِمٍ ، عَن مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیْہَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا کُفَّ بَصَرُہُ ، فَقِیلَ لَہَا ، أَتُدْخِلِینَ عَلَیْک ہَذَا الَّذِی قَالَ اللَّہُ : {وَالَّذِی تَوَلَّی کِبْرَہُ مِنْہُمْ لَہُ عَذَابٌ عَظِیمٌ} قَالَتْ : أَوَلَیْسَ فِی عَذَابٍ عَظِیمٍ ، قَدْ کُفَّ بَصَرُہُ ، قَالَ : فَأَنْشَدَہَا بَیْتًا ، قَالَہُ لاِبْنَتِہِ :
حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیبَۃٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ
قالَتْ : لَکِنَّ أَنْتَ لَسْت کَذَلِکَ۔
(٢٦٥٦٥) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے پاس حضرت حسان بن ثابت اپنی بینائی چلے جانے کے بعد آئے۔ حضرت عائشہ کو بتایا گیا کہ آپ کے پاس وہ شخص آیا ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے یوں فرمایا : کہ جس نے اٹھایا اس کا بڑا بوجھ اس کے لیے بڑا عذاب ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : کیا وہ بڑے عذاب میں نہیں ہے کہ تحقیق اس کی بینائی چلی گئی ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت حسان نے حضرت عائشہ کے بارے میں شعر سنایا جو اپنی بیٹی کے لیے کہا تھا۔ (ترجمہ) وہ پاکدامن ہیں، بےعیب ہیں، کسی برے کام کا انھوں نے ارتکاب نہیں کیا۔ وہ پاکدامن عورتوں کے عزت پر انگلی نہیں اٹھاتیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : لیکن تم ایسے نہیں ہو۔