(۲۶۵۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، حدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّ حَارِثَۃَ بْنَ بَدْرٍ التَّیْمِیَّ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ ، قَالَ :
أَلاَ أَبْلِغَنْ ہَمْدَانَ إِمَّا لَقِیتہَا سَلاَما فَلاَ یَسْلَمُ عَدُوٌّ یَعِیبُہَا
لَعَمْرُ یَمِینًا إنَّ ہَمْدَانَ تَتَّقِی الإلَہُ وَیَقْضِی بِالْکِتَابِ خَطِیبُہَا
وقال :
فشَیَّب رَأْسِی وَاسْتَخَفَّ حَلومَنَا رُعُودُ الْمَنَایَا حَوْلَہَا وَبُرُوقُہَا
وَإِنَّا لَتَسْتَحْلِی الْمَنَایَا نُفُوسُنَا وَنَتْرُکُ أُخْرَی مَرَّۃً مَا نَذُوقُہَا
قالَ عَامِرٌ : فَحُدِّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ اللَّہُ بْنُ جَعْفَرٍ ، فقَالَ : کُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِہَذِہِ الأَبْیَاتِ مِنْ ہَمَدَانَ۔
(٢٦٥٧٧) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت حارثہ بن بدر تمیمی جو کہ بصری ہیں انھوں نے یہ شعر پڑھا : (ترجمہ) جب تم ہمدان سے ملاقات کرو تو انھیں ہماری طرف سے سلام دینا اور پیغام دینا کہ ہمدان کو عیب دار کرنے والا دشمن سالم نہیں رہ سکتا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہمدان والے اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کا خطیب کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے۔
اور یہ شعر پڑھا :(ترجمہ) میرے سر کے بال سفید ہوگئے اور ہماری عقلوں کو موت کی کڑک اور چمک نے ہلکا کردیا۔ ہمارے دل موت کو میٹھا سمجھتے ہیں اور زندگی کو کڑوا۔
حضرت عامر فرماتے ہیں : یہ بات حضرت عبداللہ بن جعفر کو بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا : ہم لوگ ہمدان سے زیادہ ان اشعار کے حقدار تھے۔