(۲۶۶۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ أَہْلَ الشَّامِ کَانُوا یُقَاتِلُونَ ابْنَ الزُّبَیْرِ وَیَصِیحُونَ بِہِ : یَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَیْنِ ، فَقَالَ : ابْنُ الزُّبَیْرِ :
وتِلْکَ شَکَاۃٌ ظَاہِرٌ عَنک عَارُہَا
فَقَالَتْ أَسْمَائُ : عَیَّرُوک بِہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَہُوَ وَاللَّہِ حَقٌ۔
(٢٦٦٠٣) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر نے ارشاد فرمایا : کہ شام والے حضرت ابن زبیر سے قتال کر رہے تھے اور چیخ چیخ کر پکار رہے تھے : اے ذات نطاقین کے بیٹے (دو پٹکے باندھنے والی عورت کے بیٹے) ۔
حضرت ابن زبیر نے فرمایا :(ترجمہ) یہ وہ بیماری ہے جس کا عار تجھ سے ظاہر ہورہا ہے۔
حضرت اسمائ نے پوچھا : کیا وہ لوگ اس سے تجھے عار دلاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں حضرت اسمائ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ حق ہے۔