(۲۶۶۳۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَن شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدٗ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَہُمْ وَہُوَ عَلَی رَاحِلَتِہِ ، وَإِنَّ رَاحِلَتَہُ لَتَقْصَعُ بِجَرَّتِہَا ، وَإِنَّ لُعَابَہَا یَسِیلُ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَقَالَ : مَنِ ادَّعَی إلَی غَیْرِ أَبِیہِ ، أَوْ تَوَلَّی غَیْرَ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعَنَۃُ اللہِ ، لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ ، وَلاَ عَدْلٌ ، أَوْ قَالَ : عَدْلٌ ، وَلاَ صَرْفٌ۔
(٢٦٦٣١) حضرت عمرو بن خارجہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے خطاب فرمایا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر تھے اور سواری کا جانور جگالی کررہا تھا اور اس کی رال اس کے کندھوں کے درمیان بہہ رہی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرلے، یا جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی سے تعلق جوڑے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اور اس کی کوئی فرض عبادت اور نفلی عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔