(۲۶۷۱۵) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ: کَتَبَ عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إلَیْہِ ، أَنَّ ہَاہُنَا قَوْمًا یَجْتَمِعُونَ فَیَدْعُونَ لِلْمُسْلِمِینَ وَلِلأَمِیرِ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ : أَقْبِلْ وَأَقْبِلْ بِہِمْ مَعَک ، فَأَقْبَلَ ، وَقَالَ عُمَرُ لِلْبَوَّابِ : أَعِدَّ لِی سَوْطًا ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی عُمَرَ أَقْبَلَ عَلَی أَمِیرِہِمْ ضَرْبًا بِالسَّوْطِ ، فَقَالَ : یَا أمیر المؤمنین ، إنَّا لَسْنَا أُولَئِکَ الَّذِینَ یَعْنِی أُولَئِکَ قَوْمٌ یَأْتُونَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ۔
(٢٦٧١٥) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے کسی گورنر نے آپ کو خط لکھا کہ بیشک یہاں چند لوگ ہیں جو جمع ہوتے ہیں اور مسلمانوں اور امیر کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے ان کو خط کا جواب لکھا کہ آپ بھی آئیں اور اپنے ساتھ ان لوگوں کو بھی میرے پاس لائیں ، پس وہ آگئے ۔ حضرت عمر نے دربان سے کہا : میرے لیے کوڑا تیار کرو۔ پس جب وہ لوگ حضرت عمر پر داخل ہوئے تو آپ نے ان کے امیر کو ایک کوڑا مارا۔ اس پر اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جو مشرق کی جانب سے آئے ہیں۔