(۲۶۷۴۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُسْلِمٌ الْبَطِینُ ، عنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبہ: ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : مَا أَخْطَأَنِی ابْنُ مَسْعُودٍ خَمِیسًا إلاَّ أَتَیْتہ فِیہِ ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتہ یَقُولُ لِشَیْئٍ قَطُّ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا کَانَ ذَاتَ عَشِیَّۃٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَنَکَّسَ ، قَالَ : فَنَظَرْت إلَیْہِ وَہُوَ قَائِمٌ مُنحَلَّۃً أَزْرَارُ قَمِیصِہِ ، قَدَ اغْرَوْرَقَتْ عَیْنَاہُ وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُہُ، قَالَ : أَوْ دُونَ ذَلِکَ ، أَوْ فَوْقَ ذَلِکَ ، أَوْ قَرِیبًا مِنْ ذَلِکَ ، أَوْ شَبِیہًا بِذَلِکَ۔ (احمد ۱/۴۵۲۔ دارمی ۲۷۰)
(٢٦٧٤٦) حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں ہر جمعرات کو حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ میں نے کبھی بھی آپ کو کسی معاملہ میں یوں فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :“ پس ایک شام کو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے۔ اس پر آپ کی حالت بدل گئی میں نے دیکھا کہ آپ کھڑے ہوگئے اس حال میں کہ آپ کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے ہیں۔ اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اور آپ کی رگیں پھول گئیں۔ آپ نے فرمایا : کہ یا تو اس سے کم فرمایا یا اس سے زیادہ یا اس کے قریب یا اس جیسا ارشاد فرمایا۔