(۲۶۷۵۱) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا تَوْبَۃُ الْعَنْبَرِیُّ ، قَالَ : قَالَ لِی الشَّعْبِیُّ : أَرَأَیْت الْحَسَنَ حِینَ یَقُولُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ جَلَسْت إلَی ابْنِ عُمَرَ ، فَمَا سَمِعْتہ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلاَّ حَدِیثًا ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِضَبٍّ فَقَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ طَعَامِی ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَکُلُوہُ۔ (بخاری ۷۲۶۷۔ مسلم ۱۵۴۳)
(٢٦٧٥١) حضرت توبہ عنبری فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے مجھ سے فرمایا کہ تمہاری حضرت حسن بصری کے بارے میں کیا رائے ہے جب وہ فرماتے ہیں کہ ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ! “ حالانکہ میں حضرت ابن عمر کی مجلس میں بیٹھا ہوں میں نے انھیں کبھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ، سوائے ایک حدیث کے جو آپ نے بیان فرمائی کہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گوہ لائی گئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ میرا کھانا نہیں ہے، رہے تم تو تم اسے کھالو۔