(۲۶۷۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن بَرَکَۃَ بْنِ یَعْلَی التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی سُوَیْد الْعَبْدِیِّ ، قَالَ : کُنَّا بِبَابِ ابْنِ عُمَرَ نَسْتَأْذِنُ عَلَیْہِ ، فَحَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ ، فَرَآنِی فَقَالَ : أَیُّکُمُ اطَّلَعَ فِی دَارِی ؟ قَالَ قُلْتُ : أَنَا أَصْلَحَک اللَّہُ ، حَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ فَنَظَرْت ، قَالَ : وَیْحَک لَکَ أنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِی!۔
(٢٦٧٥٥) حضرت ابو سوید عبدی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابن عمر کے دروازے پر ان سے اجازت طلب کر رہے تھے کہ میری نگاہ پڑگئی اور انھوں نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا تم میں سے کس نے میرے گھر میں جھانکا ؟ میں نے عرض کیا : میں نے ۔۔۔ اللہ آپ کو درست رکھے ۔۔۔کہ اچانک میری نظر پڑگئی تو میں نے دیکھ لیا۔ آپ نے فرمایا : ہلاکت ہو ! تو نے کیوں میرے گھر میں جھانکا ؟ !