(۲۶۸۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن ہَارُونَ بْنِ عَنتَرَۃَ ، عَن سُلَیْمِ بْنِ حَنْظَلَۃَ قَالَ : أَتَیْنَا أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ لِنَتَحَدَّثَ عِندَہُ ، فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا نَمْشِی مَعَہُ ، فَلَحِقَہُ عُمَرُ فَرَفَعَ عَلَیْہِ الدِّرَّۃَ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، اعْلَمْ مَا تَصْنَعُ ؟ قَالَ : إنَّمَا تَرَی فِتْنَۃً لِلْمَتْبُوعِ ذِلَّۃً لِلتَّابِعِ۔
(٢٦٨٤٠) حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابی بن کعب کے پاس آئے تاکہ ہم ان کے پاس گفتگو کریں۔ جب آپ اٹھ گئے تو ہم بھی اٹھ کر ان کے ساتھ چلنے لگے۔ پس حضرت عمر ان سے ملے اور ان پر درّہ اٹھایا۔ آپ نے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! جان لیں آپ جو کر رہے ہیں ! انھوں نے فرمایا : بیشک یہ جو تم دیکھ رہے ہو یہ متبوع کے لیے فتنہ ہے اور تابع کے لیے ذلت ہے۔