(۲۶۸۴۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ ابن أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیِّ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَاسٍ مِنْ أَسْلَمَ وَہُمْ یَتَنَاضَلُونَ فَقَالَ: ارْمُوا یَا بَنِی إسْمَاعِیلَ، فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ ابْنِ الأَدْرَعِ، فَأَمْسَکَ الْقَوْمُ بِأَیْدِیہِمْ فَقَالَ: مَا لَکُمْ لاَ تَرْمُونَ؟ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللہِ، أَنَرْمِی وَقَدْ قُلْتَ: أَنَا مَعَ ابْنِ الأَدْرَعِ ، وَقَدْ عَلِمْنَا أَنَّ حِزْبَک لاَ یُغْلَبُ؟ قَالَ: ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ۔ (مسند ۶۲۹)
(٢٦٨٤٨) حضرت ابن ابو حدردا سلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر قبیلہ اسلم کے چند لوگوں کے پاس سے ہوا اس حال میں کہ وہ لوگ باہم تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو اسماعیل ! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ اور تم تیر چلاؤ اور میں ابن الادرع کے ساتھ ہوں، تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں چلا رہے ؟ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کیسے تیر چلائیں ؟ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ابن الادرع کے ساتھ ہیں، اور تحقق ہم جانتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تیر چلاؤ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔