(۲۶۹۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی جُنَابٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَی ، وَلاَ طِیَرَۃَ ، وَلاَ ہَامَۃَ ، فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، الْبَعِیرُ یَکُونُ بِہِ الْجَرَبُ فَتُجْرَبُ بِہِ الإِبِلُ ؟ قَالَ : ذَلِکَ الْقَدَرُ ، فَمَنْ أَجْرَبَ الأَوَّلَ ؟۔ (بخاری ۵۷۱۷۔ مسلم ۱۷۴۲)
(٢٦٩٢١) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں، اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایک بدوی شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کسی ایک اونٹ کو خارش لگی ہو تو وہ تمام اونٹوں کو خارش لگا دیتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بھی تقدیر ہے ورنہ پہلے کو کس نے خارش لگائی ؟