(۲۶۹۴۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِکِتَابٍ أَصَابَہُ مِنْ بَعْضِ الْکُتُبِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی أَصَبْتُ کِتَابًا حَسَنًا مِنْ بَعْضِ أَہْلِ الْکِتَابِ ، قَالَ : فَغَضِبَ ، وَقَالَ : أَمُتَہَوِّکُونَ فِیہَا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَائَ نَقِیَّۃً ، لاَ تَسْأَلُوہُمْ عَن شَیْئٍ فَیُخْبِرُوکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوا بِہِ ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِہِ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَوْ کَانَ مُوسَی کان حَیًّا الیَوم مَا وَسِعَہُ إلاَّ أَنْ یَتَّبِعَنی۔
(٢٦٩٤٩) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اہل کتاب کی کتاب کا کوئی صفحہ لائے اور فرمایا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اہل کتاب کی ایک بہت اچھی کتاب ملی ہے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضبناک ہوگئے اور فرمایا : اے ابن خطاب ! کیا تم اس بارے میں ابھی حیرت زدہ ہو ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تحقیق میں تمہارے پاس واضح اور روشن دین لے کر آیا ہوں۔ تم اہل کتاب سے کسی بھی چیز کے متعلق سوال مت کرو کہ وہ تمہیں حق بات بتلائیں گے اور تم اس کو جھٹلا دو گے، یا وہ تمہیں باطل بات بتلائیں گے اور تم اس کی تصدیق کردو گے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر آج حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔